World

امریکہ میں ایک خاتون نے اپنے ہم جنس پرست بیٹے کے لیے سروگیٹ بن کر پوتی کو پیدا کیا

  • ہولی ہونڈرچ
  • بی بی سی نیوز، واشنگٹن

امریکہ میں ایک 61 سالہ خاتون نے اپنے ہم جنس پرست بیٹے اور اس کے پارٹنر کے لیے بطور سروگیٹ (اپنی کوکھ کے ذریعے) اپنی پوتی کو جنم دیا ہے اور وہ اس پر بہت خوش ہیں۔

امریکی ریاست نیبراسکا کی سیسل ایلج نے اپنے بیٹے میتھیو ایلج اور ان کے پارٹنر ایلیئٹ ڈوہرٹی کی بیٹی اوما لوئز کو گذشتہ ہفتے جنم دیا۔

سیسل ایلج کا کہنا ہے کہ انھوں نے سروگیسی (اپنی کوکھ سے کسی دوسرے کے بچے کی پیدائش) کی پیشکش اس وقت کی تھی جب ان کے ہم جنس پرست بیٹے اور ان کے پارٹنر ڈوہرٹی نے پہلی مرتبہ یہ کہا تھا کہ وہ اپنا کنبہ بڑھانا چاہتے ہیں۔

مسز ایلج نے بی بی سی کو بتایا کہ یقیناً اس پیشکش پر وہ سب ان پر ہنس پڑے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی عمر 59 برس تھی جب انھوں نے پہلی مرتبہ یہ پیشکش کی لیکن اسے خاندان میں صرف ایک لطیفے کے طور پر ہی دیکھا گیا اور سنجیدہ نہیں لیا گیا۔

مسز ایلج کے بیٹے کے ساتھی مسٹر ڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ ’یہ ان کی طرف سے واقعی ایک خوبصورت جذبے کی عکاسی تھی، وہ ایک بہت بے لوث خاتون ہیں۔‘

یہ ہم جنس پرست جوڑا، جو مسز ایلج کے گھر کے قریب ہی اوماہا میں رہتا ہے، اپنے بچے کی پیدائش کے لیے راستے ڈھونڈ رہا تھا تو اس دوران انھیں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ مسز ایلج کی پیشکش عملی طور پر ممکن ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

اپنی بیٹی کے پیدائش کے دن یہ جوڑا بہت خوش تھا

ایلج کو ایک انٹرویو کے لیے بلایا گیا اور ان کے کئی ٹیسٹ کیے گئے جن کے بعد انھیں سروگیسی کے لیے منظور کر لیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں صحت کے معاملے میں بہت احتیاط کرتی ہوں۔ اس حوالے سے کوئی شبہ نہیں تھا کہ میں بچہ پیدا کر سکوں گی۔‘

اس بچے کی پیدائش کے لیے میتھیو ایلج نے نطفہ (سپرم) فراہم کیا اور ایلیئٹ ڈوہرٹی کی بہن نے بیضہ (ایگ) دیا۔

،تصویر کا کیپشن

مسز ایلج اپنی پوتی کے ساتھ

ڈوہرٹی ایک ہیئر ڈریسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مخالف جنس کی جانب رُجحان کے حامل افراد کے لیے آئی وی ایف کا طریقہ اپنی نسل بڑھانے کے لیے آخری حل ہوتا ہے لیکن یہ ان کے لیے واحد امید تھی۔

میتھیو، جو ایک سکول ٹیچر ہیں، کہتے ہیں کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ ہمیں کچھ الگ کرنا پڑے گا۔‘

،تصویر کا کیپشن

بچے کی پیدائش کے لیے میتھیو ایلج نے نطفہ (سپرم) فراہم کیا اور ایلیئٹ ڈوہرٹی کی بہن لی نے بیضہ (ایگ) دیا

مسز ایلج کہتی ہیں کہ حمل کے دوران حالات ٹھیک رہے۔ ان کے تین بچے ہیں اور پہلے کے مقابلے اس بار حاملہ ہونے کے دوران علامات ’تھوڑی زیادہ محسوس ہوئیں۔‘

درحقیقت ان کی عمر سے متعلق پہلی نشانی ایک ہفتے بعد ہی ظاہر ہوگئی جب مسز ایلج میں ایمبریو داخل کیا گیا اور گھر واپسی پر ان کا حمل کا ٹیسٹ کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جائے کہ منتقلی کامیاب ہوئی یا نہیں۔

مسز ایلج ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’ہمیں کہا گیا تھا کہ ایسا مت کرنا لیکن یہ لڑکے انتظار نہیں کر سکے۔‘

انھوں نے حمل کا ٹیسٹ کیا اور منفی نتائج دیکھ کر وہ کافی مایوس ہوئیں۔ جب ان کا بیٹا انھیں تسلی دینے آیا تو اس نے ٹیسٹ کے نتائج پر ایک دوسری گلابی لکیر دیکھی جس سے حمل کی تصدیق ہوتی ہے۔

مسز ایلج کہتی ہیں کہ ’اس لمحے بہت خوشی ہوئی تھی۔‘

وہ یاد کرتی ہیں کہ لڑکے ان کی کمزور بینائی کا مذاق اڑا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ’آپ کچھ دیکھ نہیں سکتیں لیکن بچہ پیدا کر سکتی ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

اوما کی پیدائش کے وقت اس کے والدین اور دادی ایک ساتھ

مسز ایلج کہتی ہیں کہ ان کے حاملہ ہونے پر اکثر لوگوں کا ردعمل مثبت تھا لیکن کچھ لوگ اس پر حیران تھے، جیسے ان کے دوسرے دو بچے یعنی میتھیو کے بہن بھائی جنھیں ’ہلکا دھچکا لگا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جب سب کو پوری بات کا پتا چلا تو سب نے اس کی حمایت کی۔‘

لیکن اس عمل نے نیبراسکا میں ہم جنس پرست خاندانوں سے امتیازی سلوک کو مزید عیاں کیا۔ 2015 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے ریاست میں ہم جنس پرست جوڑوں کو شادیوں کی اجازت مل چکی ہے لیکن ریاست میں ان سے امتیازی سلوک روکنے کے لیے قوانین نہیں۔

سنہ 2017 تک ریاست نے دہائیوں پرانی اس پابندی کو برقرار رکھا تھا جس میں ہم جنس پرست لوگوں کو لے پالک والدین بننے کی اجازت نہیں تھی۔

مسز ایلج کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی انشورنس کمپنی سے بھی صحت کے اخراجات ادا کرنے کی درخواست کی جو انھوں نے منظور نہ کی۔ اگر یہ ان کے اپنے بچے کی پیدائش ہوتی تو انھیں معاوضہ دیا جاتا۔

ریاستی قوانین کے تحت اوما کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ پر ماں اور اس کے بیٹے کو بچے کے والدین درج کیا گیا ہے لیکن میتھیو کے شوہر کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔

میتھیو کہتے ہیں کہ ’یہ ایک چھوٹی سی بات ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیسے ہمارے لیے راستے بند ہیں۔‘

میتھیو کو چار سال قبل ایک سکول سے نکال دیا گیا تھا جب انھوں نے انتظامیہ کو بتایا کہ وہ اپنے ہم جنس پرست پارٹنر سے شادی کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

اوما اپنے والدین کے ساتھ

اس بات پر ہم جنس پرستوں میں کافی غم و غصہ پایا گیا تھا اور ایک آن لائن پٹیشن بھی جاری کی گئی تھی جس کی ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے حمایت کی تھی۔

مسز ایلج کہتی ہیں کہ وہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک روکنے کے لیے اپنی کہانی منظر عام پر لے کر آئے تاکہ یہ بھی بتایا جا سکے کہ یہاں کچھ امید ابھی باقی ہے۔

میتھیو کہتے ہیں کہ اب وہ ان رویوں کو ذاتی طور پر نہیں لیتے۔ ’آخر کار ہم فیملی ہیں، دوست ہیں اور ہمارے اردگرد یہ کمیونٹی ہے جو ہماری حمایت کرتی ہے۔‘

اوما کی پیدائش کے بعد سے مسز ایلج اور ان کی پوتی کی طبیعت ٹھیک ہے۔

مسز ایلج کہتی ہیں کہ ’اس چھوٹی سی بچی کے اردگرد کافی لوگ اسے حوصلہ دینے والے ہیں۔ وہ بڑی ہو کر اس خاندان سے محبت کرے گی۔‘

’سب کچھ ایسے ہی ہونا چاہیے تھا۔‘


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button