World

امریکی صدارتی انتخاب: کیا ڈونلڈ ٹرمپ نتائج کو الٹ سکتے ہیں؟

  • اینتھنی زرچر
  • بی بی سی نیوز، نمائندہ شمالی امریکہ

امریکی صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کو فاتح کی حیثیت سے پیش کیے جانے کے تقریباً دو ہفتوں بعد بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شکست تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ کیا وہ اس کا نتیجہ الٹنے کا کوئی منصوبہ رکھتے ہیں؟

انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کی صدر کی قانونی حکمت عملی پر پورے ملک کی عدالتیں کان دھرتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ٹرمپ کی ٹیم کو درجنوں مقدمات درج کرنے کے بعد بھی کہیں سے معنی خیز فتح نظر نہیں آ رہی ہے اور نہ ہی وہ ووٹنگ میں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی کے شواہد فراہم کر سکی ہے۔

ان کے سب سے بڑے وکیل اور نیو یارک سٹی کے سابق میئر روڈی گولیانی نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ ٹرمپ کی ٹیم میشیگن سے اپنا مقدمہ واپس لے رہی ہے کیونکہ وہاں جو بائیڈن ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے جیت رہے ہیں۔

جارجیا کی ریاست نے اپنے ووٹوں کی گنتی کی تصدیق کردی ہے جس میں تقریباً 50 لاکھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد جو بائیڈن کو 12 ہزار سے زیادہ ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

اب جبکہ دفتر کے دروازے ان پر بند ہو گئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ انتخابی نتائج کو بدلنے کی قانونی چارہ جوئی کی حکمت عملی کو تبدیل کرکے سیاسی چال چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی قدم بہ قدم حکمت عملی

وہ مندرجہ ذیل چیزیں کر سکتے ہیں:

  • قانونی چارہ جوئی کے ذریعے یا پھر ریپبلکن عہدیداروں کو ترغیب دے کر زیادہ سے زیادہ ریاستوں میں ووٹوں کی تصدیق کے عمل کو روک سکتے ہیں
  • رپبلکن کے زیر کنٹرول ریاستوں کے عہدیداروں کو اس بات پر راضی کریں کہ جہاں بائیڈن نے کم فرق سے جیت حاصل کی ہے وہ وہاں پاپولر ووٹ کے نتائج کو وسیع پیمانے پر ہونے والی دھوکہ دہی کی وجہ سے مسترد کر دیں
  • اس کے بعد 14 دسمبر کو دیے جانے والے ریاست کے الیکٹورل کالج کے ووٹ میں ‘رائے دہندگان’ کے ووٹ کو بائیڈن کے بجائے ٹرمپ کے حق میں کر دیے جائيں
  • مثال کے طور پر ایسا وسکونسن، میشیگن اور پنسلوینیا جیسے بہت سی ریاستوں میں کیا جائے تاکہ ٹرمپ کو موجودہ 232 انتخابی ووٹوں سے مطلوبہ 269 ووٹوں سے آگے لے جایا جا سکے
  • یہاں تک کہ بائیڈن کے 306 ووٹوں کو کم کرنا بھی کام کرسکتا ہے، کیونکہ اس کے بعد انتخاب کا فیصلہ ایوان نمائندگان میں ہوگا۔ اگرچہ اس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس ہے تاہم کچھ غیر واضح اصولوں کی وجہ سے ٹرمپ کو فائدہ ہوگا

ٹرمپ اس کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

وہ ان لوگوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں جو ممکنہ طور پر صدر کے انتخاب کے لیے ریاستوں میں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

جب امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں تو وہ درحقیقت قومی نہیں بلکہ ریاستی مقابلے میں ووٹ دیتے ہیں۔ وہ ریاستی انتخاب کے لیے ووٹ دے رہے ہوتے ہیں جو پھر صدر کے لیے ایک ایک ووٹ ڈالیں گے۔ یہ انتخاب کنندہ عام طور پر رائے دہندگان کی مرضی کی پیروی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مشیگن میں سب افراد کو جو بائیڈن کو ووٹ دینا چاہیے کیونکہ انھوں نے اس ریاست میں کامیابی حاصل کی ہے۔

پیر کے روز دو رپبلکن اور دو ڈیموکریٹس پر مشتمل ایک ریاستی کنویسنگ بورڈ ووٹوں کی گنتی اور بائیڈن جانے والے 16 ووٹرز کے ووٹوں کی باضابطہ طور پر تصدیق کرنے کے لیے اجلاس منعقد کرنے والا ہے۔

ٹرمپ انفرادی ریاستوں پر اپنے موجودہ ووٹوں کی تعداد کو نظرانداز کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اس بات کا پہلا اشارہ ان خبروں کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے رپبلکن عہدیداروں کو فون کیا تھا جنھوں نے ابتدا میں میشیگن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ کے انتخابی نتائج کی تصدیق سے انکار کردیا تھا۔

دو نچلی سطح کے پارٹی عہدیداروں کا پورے امریکہ کے ہزاروں کاؤنٹی کینوسروں میں سے امریکی صدر سے براہ راست بات کرنا غیر معمولی بات ہے۔ انھوں نے کارروائی روکنے کے اپنے فیصلے کو بدل دیا تھا لیکن پھر ٹرمپ کا فون کے بعد انھوں نے اپنے فیصلے میں تبدیلی کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

یہ اشارے ان کی نیت کا واضح ثبوت بن گئے جب میشیگن کے قانون ساز ریپبلکن رہنماؤں نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے کی صدارتی دعوت کو قبول کیا۔

اس خبر کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی ملیں کہ صدر دوسرے طریقوں کو بھی تلاش کر رہے ہیں جس سے وہ اہم ریاستوں کے قانون سازوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ نتائج کا جائزہ لیں اور شاید اسے تبدیل بھی کرا سکیں۔

عام انتخابات کے دوران جو عام طور پر محض رسمی چیز ہوتی تھی وہ ریاستی ووٹوں کی کل تعداد کی دو شاخہ تصدیق کی وجہ سے اگلے چار سالوں تک صدر کے اپنا اقتدار برقرار رکھنے کی کوششوں کے نتیجے میں جنگ کا نیا میدان بن گئی ہے۔

کیا ٹرمپ حقیقت میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟

ایسا ہونا ناممکن نہیں، لیکن امکانات بہت کم ہیں۔ سب سے پہلے تو صدر کو متعدد ریاستوں میں نتائج کو الٹنا ہوگا جہاں بائیڈن کی برتری دسیوں ہزار ووٹوں سے لے کر ایک لاکھ ووٹ تک ہے۔ یہ سنہ 2000 نہیں جب سب کچھ فلوریڈا پر آکر ٹک گیا تھا۔

علاوہ ازیں جن ریاستوں پر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نظریں جمائے ہوئے ہے ان میں میشیگن، وسکانسن، پینسلوانیا اور نویڈا بھی ہیں جہاں ڈیموکریٹ گورنرز ہیں اور وہ یونہی چپ چاپ بیٹھ کر سب ہوتا نہیں دیکھ سکیں گے۔

مثال کے طور پر میشیگن کے گورنر گریچن وہٹمر موجودہ ریاستی الیکشن بورڈ کی جگہ دوسرا بورڈ لاسکتے ہیں جو، بائیڈن کی فتح کی تصدیق کرے۔

ڈیموکریٹک گورنرز بائیڈن کے حامیوں کے نام آگے بھیج سکتے ہیں جو رپبلکن نمائندوں کو چیلنج کریں گے۔ اور پھر کانگریس کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ کس گروپ کو منظور کرتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ بائیڈن کے حامیان متفکر نہیں ہیں۔ اگرچہ اس کے امکانات اتنے ہی ہیں جیسے کوئی لاٹری جیتنے والے پر بجلی گر پڑے یا پھر بڑا سا شہابیہ زمین سے ٹکرا جائے۔ جیت حاصل کرکے بھی جیت سے محروم ہوجانے کے امکان سے بھی ڈیموکریٹس کو ٹھنڈے پسینے آ سکتے ہیں۔

کیا یہ حکمت عملی قانونی طور پر درست ہے؟

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنا زیادہ تر وقت صدارتی روایات کو توڑتے ہوئے گزارا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے دور اقتدار کے یہ آخری دن بھی زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ انتخابی عہدیداروں یا ریاستی نمائندوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ یہ متنازع تو ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ غیر قانونی بھی ہو۔

امریکہ میں پہلے ریاستی نمائندوں کے پاس زیادہ وسیع اختیارات تھے کہ وہ انتخابی طور پر کس طرح ووٹ ڈالتے ہیں اور آج بھی ایسا کوئی آئینی تقاضا نہیں ہے کہ وہ ایک مقبول ووٹ کے نتائج پر غور کریں۔ لیکن اس کے بعد سے انھوں نے پاپولر ووٹ کا احترام کرتے ہوئے ووٹ دیے لیکن اصل نظام کے نقائص تاحال برقرار ہیں۔

اگر صدر میشیگن کے قانون دانوں کو راضی کر بھی لیتے ہیں تو ڈیموکریٹس قانونی طور پر اس پر اعتراض کریں گے۔ قومی سطح کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر بھی یہ قانون غیر واضح ہے۔ اور اس نوعیت کا معاملہ اس سے قبل شاید ہی کسی مقدمے میں سامنے آئے ہوں۔

کیا ریاستیں انتخابات سے متعلق اپنے قوانین کو تبدیل کرسکتی ہیں؟ شاید ہاں۔ لیکن حتمی فیصلہ ججوں کا ہی ہوگا۔

کیا اس سے پہلے کسی نے ایسا کیا ہے؟

آخری بار سنہ 2000 کے انتخابات میں منتخب کنندگان کے ووٹوں پر بات آئی تھی جبکہ الگور اور جارج ڈبلیو بش آمنے سامنے تھے۔ لیکن معاملہ صرف ایک ریاست کا تھا جب فلوریڈا میں چند سو ووٹوں کا فرق تھا۔ سپریم کورٹ نے مداخلت کی اور بش صدر بن گئے۔

لیکن اگر بہت ساری ریاستوں میں انتخابات کے تنازعے کی بات کریں تو پھر آپ کو سنہ 1876 میں جانا پڑے گا جب رپبلکن کے ردر فورڈ بی ہیز اور ڈیموکریٹ کے سیموئل ٹیلڈن صدارتی انتخاب لڑ رہے تھے۔

لوزیانا، جنوبی کیرولینا اور فلوریڈا کے الیکٹورل کالج میں کسی کو بھی اکثریت نہیں ملی تھی۔ اس کے بعد یہ معاملہ ایوان نمائندگان کے ایوان زیریں تک گیا جس نے قومی سطح پر ہیز کی حمایت کی جنھوں نے سنہ 2000 میں ڈبلیو جے بش اور سنہ 2016 میں ٹرمپ کی طرح کم پاپولر ووٹ حاصل کرنے کے بعد بھی جیت حاصل کی۔

اگر ٹرمپ نے سبکدوش ہونے سے انکار کردیا؟

اگر ٹرمپ کے تمام اقدامات ناکام ہوجاتے ہیں تو بائیڈن 20 جنوری کی دو پہر بارہ بج کر ایک منٹ پر امریکہ کے 46 ویں صدر کا حلف لیں گے، چاہے ٹرمپ شکست تسلیم کریں یا نہ کریں۔

اس موقعے پر سیکرٹ سروس اور امریکی فوج آزاد ہوگی کہ وہ سرکاری املاک پر کسی غیر مجاز شخص کی طرح سابق صدر کے ساتھ جو سلوک روا سمجھتی ہے کرے۔

جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں جو بائیڈن نے کہا: ‘جو وہ کر رہے ہیں وہ شرمناک ہے۔ وہ دنیا کو جمہوریت کے بارے میں غلط پیغامات بھیج رہے ہیں۔’

اگر ٹرمپ کامیاب نہیں ہوئے تو بھی وہ آنے والے انتخابات کے لیے ایک مثال قائم کر رہے ہیں جس سے امریکی جمہوریت اور اداروں میں امریکی عوام کا اعتماد مجروح ہوگا۔


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button