World

انڈونیشیا: پلاسٹک کی بوتلوں سے نایاب طوطے برآمد

طوطے

انڈونیشیا کے مشرقی علاقے پاپوا میں بندرگاہ پر کھڑے ایک بحری جہاز سے پلاسٹک کی بوتلوں میں بند درجنوں سمگل شدہ طوطے ملے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عملے نے ایک بڑے ڈبے سے آوازیں آنے کے بعد 64 زندہ جبکہ 10 مردہ طوطوں کو برآمد کیا ہے جنھیں پلاسٹک کی بوتلوں میں بند کیا گیا تھا۔

براعظم ایشیا میں پرندوں کی نسل کی معدومیت کا سب سے زیادہ خطرہ انڈونیشیا میں ہے اور یہاں پی پرندوں کی غیر قانونی تجارت بھی سب سے زیادہ ہے۔

پرندوں کو ملک کے اندر پرندوں کے بازاروں میں بیچا جاتا ہے یا انھیں بیرون ملک سمگل کیا جاتا ہے۔

مقامی پولیس کے ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی واضح نہیں ہے کہ انڈونیشیا کے ساحلی شہر فکفک کی بندرگاہ سے ملنے والے پرندوں کو کہا بھیجا جا رہا تھا۔

انھوں نے جمعے کو بتایا کہ ‘جہاز کے عملے کا کہنا ہے کہ انھیں شک ہوا کے ڈبے کے اندر جانور ہیں کیونکہ انھیں وہاں سے عجیب آوازیں آ رہی تھیں۔’

انتباہ: مضمون میں نیچے دلخراش تصاویر ہیں

تاہم اس ضمن میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

قبضے میں لیے گئے پرندوں میں سیاہ سروں والے نایاب لوری طوطے ہیں جو نیو گینی اور بحر الکاہل کے جنوبی مغربی جزیروں پر پائے جاتے ہیں۔

جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت پر نگرانی رکھنے والی الزبتھ جان نے بتایا کہ یہ انڈونیشیا میں طوطوں کی ایک محفوظ نسل ہے جنھیں پالتو جانوروں کے لیے غیر قانونی طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘شاید انڈونیشیا خطے میں پرندوں کی سمگلنگ کے الزام میں سر فہرست ہے ، لیکن اس کاروبار میں شامل اصل مجرموں کے خلاف حقیقی کارروائی اور مزید کارروائیوں کی ضرورت ہے۔’

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سمگل کیے جانے والے پرندوں کو پلاسٹک کی بوتلوں میں بند کیا گیا ہو، سنہ 2015 میں انڈونیشیا کی پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جو 21 پیلی کلغی والے کاکاٹو طوطوں کو بوتلوں میں بند کر کے لے جا رہا تھا۔ واضح رہے کہ یہ نسل بھی معدومیت کا شکار ہے۔

سنہ 2017 میں بھی انڈونیشیا کے حکام نے 125 نایاب پرندوں کو برآمد کیا تھا جنھیں گٹر کے پائپوں میں چھپایا گیا تھا، جس کے بعد جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے نے متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا۔


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button