World

برطانیہ کی نئی ’نیشنل سائبر فورس‘ کا کیا کام ہے؟

  • گورڈن کوریرا
  • سکیورٹی نامہ نگار

برطانیہ میں نیشنل سائبر فورس (این سی ایف) کی موجودگی کو کئی ماہ کی چہ مگوئیوں اور ان کی جانب سے جارحانہ سائبر اقدامات شروع ہونے کے دس سال بعد اب عوامی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

تنظیم کی ذمہ داریوں میں دہشتگردوں، مجرموں، اور دشمن ممالک کی جانب سے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس تنظیم میں کام کرنے والے اہلکار برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور سائبر جاسوسی کی ایجنسی جی سی ایچ کیو کے ساتھ مل کر نئی کمانڈ کے تحت کام کریں گے۔ یہ نئی کمانڈ اپریل سے کام کر رہی ہےاور اس کی موجودگی کے بارے میں وزیراعظم بورس جانسن نے جمعرات کے روز عوامی سطح پر تسلیم کیا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ جب برطانوی فوجی کسی جنگ میں جائیں تو سائبر آپریشن روایتی فوج کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کریں

ایک ممکنہ صرتحال یہ ہے کہ یہ تنظیم برطانوی فضائیہ کی مدد کے لیے دشمن ممالک کے فضائی دفاعی نظا م کو ہیک کرنے کی کوشش کرے۔

تاہم یہ فورس صرف عسکری مقاصد کے لیے نہیں بنائی گئی۔ اس سے روز مرہ کی مشکلات کا بھی سامنا کیا جا سکے گا۔

این ایف سی کا عملی مشن ان لوگوں کے مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچانا ہے جن سے برطانیہ کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے۔

اس میں ایسی چیزیں بھی شامل ہو سکتی ہیں کہ کسی ملزم کے موبائل فون کو غیر کارآمد بنا دیا جائے تاکہ وہ اپنے ساتھیوں سے بات نہ کر سکے۔

یا پھر کسی سائبر جرائم میں ملوث گروہ کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا جائے تاکہ 2017 کے ’وانا کرائی‘ جیسے حملے نہ ہوں سکیں جس میں این ایچ ایس اور دیگر تنظیموں کا ڈیٹا خراب کر دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے حیران کر دینے کی صلاحیت ایک اہم عنصر ہو سکتی ہے اور شاید اسی لیے حکام اس سلسلے میں زیادہ تفصیلات دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

تاہم ایک اور طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حملہ آوروں سے بات چیت کر کے ان کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی جائے۔

جنگی میدان میں سپورٹ

یہ نئی کمانڈ اپریل سے کام کر رہی ہے اور اس کے سربراہ کو تمام جاری آپریشنز کے بارے میں پر پفتے بریفنگ دی جاتی ہے۔

اس کمانڈ میں بھرتیاں موجودہ فوج، ایم آئی سکس اور دفاعی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لیبارٹری سے کی جا رہی ہیں۔

ایم آئی سکس کے افسران بھی اس میں ملوث ہو سکتے ہیں اگر کوئی آپریشن بین الاقوامی سطح پر کیا جا رہا ہو۔

اس نئی تنظیم کے بارے میں ہدف یہ ہے کہ اس میں آئندہ دس سالوں میں 3000 افراد کام کر رہے ہوں۔

تاہم برطانیہ گزشتہ دس سالوں سے سائبر حملوں کی صلاحیت پر کام کر رہا ہے اور انھیں پہلی مرتبہ افغانستان میں استعمال کیا گیا اور اس کے علاوہ عراق اور شام میں دہشتگرد تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔

2018 میں جی سی ایچ کیو کے ڈائریکٹر جریمی فلیمنگ نے ایک بڑی جارحانہ سائبر کاوش کا ذکر کیا تھا جو کہ دولت اسلامیہ کے پروپگینڈا کو ختم کرنے اور اس کے حملے کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

حکام نے اب تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کیا ان صلاحیتوں کو کسی اور ریاست کے خلاف استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔

تاہم 2018 میں سکریپال کو زہر دینے کے بعد روس کو نشانہ بنانے اور کورونا کی وبا کے دوران غیر مصدقہ معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس تنظیم کا قیام اتنا سیدھا معاملہ نھیں تھا۔ اس کی سربراہی کے حوالے سے جی سی ایچ کیو اور وزارتِ دفاع کے درمیان کافی لڑائی رہی ہے۔

اب یہ طے پا چکا ہے کہ مختلف قسم کے آپریشنز کے لیے خارجہ سیکرٹری اور دفاع سیکرٹری کی منظوری لازمی ہوگی۔

جنگ اور امن کے درمیان تفریق

ادھر دنیا میں کئی ممالک نے اپنی سائبر صلاحیتوں کو بہتر کر لیا ہے۔ روس پر الزام ہے کہ انھوں نے مختلف طریقوں سے سائبر حملے کیے ہیں جو کہ روایتی عسکری لڑائی کے زمرے میں نہیں آتے۔ ایسا کرنے سے جنگ اور امن کے درمیان تفریق مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے مغربی ممالک نے خود کو منظم کرنے میں بہت زیادہ وقت لگایا ہے تاہم اب وہ اس نئے انداز کی جنگ میں نئے ہتھیاروں سے لڑنے لگے ہیں۔

امریکہ میں سائبر کمانڈ کی سربراہی جنرل پال کر رہے ہیں۔ اس کا لائحہ عمل متواتر انگیجمنٹ اور فارورڈ دفاع کا ہے۔

انھوں نے روس کی انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کو نشانہ بنایا ہے جس نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

اخلاقیات کا سوالات

برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی حوالوں سے روسی صلاحیتوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں تاہم وہ ایک ‘ذمہ دار سائبر پاور‘ کے طور پر سامنے آنا چاہتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ بیرونی نگرانی اور زیادہ پرخطر آپریشنز کے لیے وزارتی اجازت درکار ہو۔ تاہم یہ ایک مشکل اور دلچسپ سوال ہے کہ ان ہتھیاروں کو لے کر برطانیہ کس حد تک جا سکتا ہے۔


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button