World

برطانیہ کے ’رابن ہُڈ‘ پولیس اہلکار جو جرمن نازی فوج سے کھانا چُراتے تھے

  • پیٹرک کلہین
  • بی بی سی نیوز

،تصویر کا کیپشن

ان برطانوی پولیس اہلکاروں کو جرمن فوجیوں کو سلیوٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا

سنہ 1940 کی دہائی میں جب جرمن افواج نے برطانیہ کے گرنزے نامی جزیرے پر قبضہ کیا تو وہاں پولیس اہلکاروں کے ایک گروہ کو یورپ میں نازیوں کے حراستی کیمپ منتقل کر دیا گیا جہاں ان پر کافی تشدد کیا گیا۔

انھیں ایک برطانوی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ان کا جرم کیا تھا؟ انھوں نے جرمن افواج سے کھانا چُرایا تھا تاکہ بھوکے شہریوں کا پیٹ بھر سکیں۔

ان میں سے تمام لوگ بچ نہ سکے۔

کچھ افراد جب دوسری عالمی جنگ کے بعد گھر لوٹے تو وہ مختلف بیماریوں اور زندگی بھر کے لیے معذور کر دینے والے زخموں کا شکار ہوچکے تھے۔ اس کے باوجود برطانوی جزیرے پر ان سے جرائم پیشہ افراد جیسا سلوک رکھا گیا اور انھیں پینشن بھی نہیں دی گئی۔

کئی دہائیوں بعد ان کے خاندانوں کی اگلی نسلوں نے تاریخ میں ان سے منسوب غلط فہمی اور ناانصافی کے داغ دھونا چاہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا کیپشن

جرمن فوج برطانیہ کے ایک جزیرے گرنزے پر جون 1940 سے مئی 1945 تک قابض رہی تھی

کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹر گِلی کار نے کئی برسوں پر چینل جزیروں پر تحقیق کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کئی بار عام شہریوں سے زیادہ بُرا سلوک پولیس اہلکاروں سے برتا جاتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ پولیس اہلکاروں پر فرض تھا کہ وہ گزرتے ہوئے جرمن فوجیوں کو سیلوٹ کریں، جو ان کے لیے کرنا مشکل تھا۔

کانسٹیبلز کنگسٹن بیلی اور فرینک ٹک نے قابض فوج کے خلاف سب سے پہلے مزاحمت دکھائی۔

انھوں نے ان کی گاڑیوں کے پٹرول ٹینک میں ریت ڈال دی اور جزیرے کے اردگرد ’وی فار وکٹری‘ یعنی جیت کا نشان پینٹ کردیا۔

،تصویر کا کیپشن

چینل جزیرے پر کئی پولیس اہلکاروں نے جرمن فوج کے سامنے مزاحمت دکھائی

یہ پولیس اہلکار بی بی سی کی نشریات سے متاثر تھے جو وہ خفیہ طور پر سنا کرتے تھے۔ اس نشریات میں انھیں بتایا جاتا تھا کہ وہ قابض فوج کو کیسے کمزور بنا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر کار کا کہنا ہے کہ ’ان نوجوانوں کو مسلح افواج کے لیے لڑنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا تو ایسی نشریات سے وہ کافی متحرک ہوتے تھے۔ پولیس اہلکار کی حیثیت سے ان کے پاس وہ مواقع موجود تھے جن سے باقی محروم تھے۔‘

سنہ 1941-42 کے موسم سرما کے دوران شہری آبادی کو غذائی قلت کا سامنا تھا۔ لیکن جرمن افواج کے پاس کھانا کثیر مقدار میں موجود تھا۔

،تصویر کا کیپشن

مقبوضہ جزیرے پر ہزاروں کی تعداد میں جرمن فوجی موجود تھے

ایک دن بیلی اور ٹک جرمن فوج کے گودام میں رات کے وقت گھس گئے۔ انھوں نے ضرورت کے مطابق ڈبہ بند ٹِن غذا چُرا لی۔

بیلی نے ایسا اپنی سوانح عمری میں بتایا کہ فروری 1942 کے دوران یہ خفیہ آپریشن ’ہاتھ سے نکلتا جا رہا تھا۔۔۔ عملی طور پر اب پوری پولیس فورس اس میں ملوث ہوچکی تھی۔‘

لیکن کچھ ہی عرصے بعد بیلی اور ٹک رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔ اُس دن جرمن فوجی پہلے سے ہی ان کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔

اس کے بعد 17 پولیس اہلکاروں کو مقامی رائل عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ کچھ پر شہریوں کی دکانوں سے شراب کی بوتلیں چُرانے کا بھی الزام لگا۔

جرمن فوجیوں پر الزام لگا کہ انھوں نے تفتیش کے دوران ان میں سے کچھ پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔

آرچیبلڈ ٹارڈف نامی ایک پولیس اہلکار نے بتایا تھا کہ انھیں ’دوسرے اہلکاروں کی جانب سے دستخط شدہ بیان دکھائے گئے اور کہا گیا کہ اگر میں نے دستخط نہ کیے تو مجھے گولی مار دی جائے گی۔ تو میں نے آخر کار دستخط کر دیے۔‘

’یہ تمام بیان جرمن زبان میں لکھے گئے تھے۔‘

،تصویر کا کیپشن

1942 میں ٹک اور بیلی کو جرمن سٹور سے چیزیں چراتے ہوئے پکڑ لیا گیا تھا

جرمن ملٹری کورٹ اور برطانوی رائل کورٹ دونوں میں ان افراد کے خلاف مقدمہ چلا۔ انھیں ساڑھے چار سال تک قید بامشقت سنائی گئی۔

تاریخ دان ڈاکٹر پال سینڈرز نے ان افراد کے ناموں پر سے یہ الزامات ختم کرنے کی کوشش کی۔ یہ تمام افراد اب وفات پاچکے ہیں۔

ڈاکٹر پال سینڈرز کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مقدمے میں انصاف نہیں کیا گیا۔ ’1942 میں برطانوی عدالت نے بدترین آمریت کے دوران کینگرو کورٹ کا کام کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان افراد کو برطانوی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ جُرم کا اعتراف کر لیں تاکہ جرمن حکام مقامی عدالت میں ان پر مقدمہ چلانے پر راضی ہوجائیں۔ انھیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ’جنگ کے بعد ان سزاؤں کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔‘

،تصویر کا کیپشن

ان پولیس اہلکاروں کو اس کے بعد حراستی مراکز اور قید خانوں میں رکھا گیا تھا جہاں ان پر تشدد کیا گیا

16 پولیس اہلکاروں کو یورپ کے حراستی مراکز اور قید خانوں میں منتقل کیا گیا جہاں انھیں بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹک نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کا ذکر کچھ ایسے کیا ہے کہ: ’مجھے لاتیں ماری جاتی تھیں، بے ہوش کر دیا جاتا تھا، ایک ڈنڈے سے مارا جاتا تھا اور رائفل کے ہینڈل سے پیٹا جاتا تھا۔‘

ہربرٹ سمتھ وہ واحد پولیس اہلکار تھے جن کی بیرون ملک ہلاکت ہوئی۔

ٹک بتاتے ہیں کہ سمتھ کو ’خوراک سے محروم رکھا گیا اور سخت سردی میں کپڑے نہیں دیے گئے۔۔۔ انھیں پیٹ پر بیلچے اور کلہاڑی سے مارا گیا۔‘ اور بعد میں ان کو ایک قید خانے میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

جب چارلس فرینڈ کو امریکی افواج نے رہا کیا تو ان کا وزن صرف 45 کلو گرام تھا اور وہ اپنی ٹانگوں کا استعمال نہیں کر پا رہے تھے۔

،تصویر کا کیپشن

سابقہ پولیس اہلکار ان قید خانوں میں دم توڑ گئے یا رہائی تک انھیں زندگی بھر کے لیے معذور کر دیا گیا

’ان بُرے دنوں‘ کی وجہ سے انھیں پوری زندگی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور سنہ 1986 میں ان کی موت دل کے دورے سے ہوئی جب وہ اپنی کہانی پر مبنی ایک نمائش کے لیے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جا رہے تھے۔

ان کے بیٹے کیتھ نے کہا کہ ’وہ اپنے تجربے سے ذہنی اور جسمانی طور پر کافی ڈر چکے تھے اور وہ اس سے کبھی صحتیاب نہ ہوسکے۔‘

اس سزا کی وجہ سے یہ افراد دوبارہ پولیس کا حصہ نہ بن سکے اور نہ ہی اپنی پینشن وصول کر سکے۔

چارلس فرینڈ یاد کرتے ہیں کہ ان کے والد برطانوی حکام سے کافی مایوس تھے۔ ان کو کہا گیا تھا کہ وہ قید خانے سے ان کی واپسی پر سب ٹھیک کر دیں گے۔‘

’وہ چڑچڑے ہوچکے تھے اور انھیں لگتا تھا کہ مقامی حکام نے اپنے کیے وعدے نہیں نبھائے۔‘

’میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے رابن ہڈ جیسا کام کیا تھا۔ یہ ذاتی مفاد کے لیے کوئی جرم نہیں تھا۔ اس کا مقصد بھوکوں کو کھانا کھلانا تھا۔ پولیس اہلکار کی حیثیت سے وہ ایسا کر سکتے تھے۔‘

،تصویر کا کیپشن

فرینک ٹک 1989 میں اس ریلوے لائن کے پاس موجود ہیں جسے انھوں نے اپنی قید کے دوران تعمیر کرنے میں مدد کی

جنگ کے بعد ان میں سے کئی افراد نے مغربی جرمنی کی حکومت سے درخواست کی کہ ان سے اس سلوک پر معاوضہ دیا جائے۔

سنہ 1955 میں آٹھ افراد نے اپنی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی لیکن وہ کئی جرائم کے حوالے سے ناکام رہے۔ اس کا مطلب تھا تمام افراد پر ماضی کی سزائیں عائد رہیں گی جب تک ان کی وفات نہیں ہو گئی۔

گرنزے جیسے برطانوی خطوں میں سب سے اعلیٰ عدالت (پریوی کونسل) نے درخواست کے بعد ان کا مقدمہ سنا تھا۔

ڈاکٹر سینڈرز کہتے ہیں کہ ’1950 کی دہائی میں یہ غلط فہمی قائم رہی تھا کہ برطانوی انتظامیہ اور گرنزے میں نازیوں کی مداخلت کے بعد بھی بغیر کسی دباؤ انصاف ہوتا رہا۔ یہ بیانیہ آج بھی قائم ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

1940 کی دہائی میں جزیرے کے ریکارڈ میں وہ دستاویزات موجود ہیں جن کے تحت ان پولیس اہلکاروں کو سزائیں ہوئی تھیں

سنہ 2018 کے دوران پریوی کونسل میں 1955 میں اِن تین افراد کی جانب سے اپیل پر فیصلے کے دوبارہ جائزے کی کوشش کی گئی۔

بیرسٹر پیٹرک او کونر نے اس کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ ’یہ طویل دورانیے تک چلنے والی ناانصافی ہے جس کی ذمہ دار عدالتیں ہیں اور لہٰذا عدالتوں کو اس کی تصحیح کرنی چاہیے۔‘

یہ اپیل رواں سال مارچ میں خارج کر دی گئی تھی۔

اپنے فیصلے میں پریوی کونسل نے کہا کہ ’اس درخواست میں کئی مشکلات ہیں، جیسے تشدد کی بنا پر اعترافی بیان لینے کا معاملہ 1955 میں پریوی کونسل کے سامنے رکھا جاسکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔‘

او کونر نے کہا کہ ’ایسا کوئی طریقہ کار نہیں کہ سزائیں خارج کی جاسکیں۔ بدقسمتی سے اس مقدمے سے گرنزے کے انصاف کے نظام پر وہ داغ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔‘

چارلس فرینڈ کے لیے اس دُکھ کو برداشت کرنا مشکل تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت مایوس کن تھا۔ یہ بہت غیر منصفانہ لگتا ہے۔ آج بھی میرے خاندان کے کردار پر یہ داغ ہے جسے نہیں ہونا چاہیے۔‘

’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اب وہ مر چکے ہیں۔ ریکارڈ اب بھی یہاں موجود ہے۔‘


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button