World

بھنگ کے بارے میں عالمی قوانین میں تبدیلی سے کیا بدلے گا؟

  • نیاز فاروقی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام

یہ بات پرانی ہو چکی ہے کہ کئی صوفی بھنگ کا استعمال ’عالم وجد‘ میں جانے کے لیے کرتے تھے، ہندو اپنے بہت سے تہواروں میں اسے استعمال کرتے ہیں اور سماج کے بہت سے دوسرے طبقے اسے صدیوں سے دواؤں کی طرح استعمال کرتے رہے ہیں۔

لیکن سنہ 1961 میں بھنگ کے مبینہ نقصان دہ استعمال کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جانب سے اسے غیر قانونی قرار دیا گیا۔ اس کے معاشرتی اور ثقافتی استعمال کی دلیل پر اس سے ہونے والے مبینہ نقصانات کا خطرہ غالب آیا۔

رواں ہفتے اقوام متحدہ نے سنہ 1961 سنگل کنونشن آن نارکوٹکس ڈرگز کے اپنے قانون میں ترمیم کر کے بھنگ کی درجہ بندی میں تبدیلی کی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بھنگ، جسے ہیروئن جیسی مہلک اور ممنوع منشیات کے ساتھ اس قانون کے شیڈول چار میں درجہ بند کیا جاتا تھا، اب وہ صرف شیڈول ایک میں ہو گی یعنی اس کا استعمال طبی تحقیق کے علاوہ ادویات بنانے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے تفریحی استعمال پر پابندی اب بھی عائد رہے گی۔ اگرچہ کوئی ملک چاہے تو وہ اپنے قانون میں تفریحی مقاصد کے لیے اجازت دے سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے منشیات کے کمیشن کے 53 اراکین میں سے 27 نے بھنگ کو خطرناک منشیات کی فہرست سے نکالنے کے حق میں ووٹ دیا ہے، ایک ملک نے ووٹ نہیں دیا اور 25 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روس، چین، جاپان، سنگاپور اور ایران کے ساتھ پاکستان نے اس کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ امریکہ اور یوروپی یونین نے حمایت کی ہے۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے ایک انڈین سفارتکار نے کہا کہ ‘یہ زیادہ تر فرسٹ ورلڈ کے مقابلے میں ترقی پذیر اور اسلامی ممالک کے درمیان ووٹ تھا۔’

انھوں نے کہا کہ ‘اس میں بس انڈیا وہ واحد ملک تھا جس نے فرسٹ ورلڈ کے ساتھ ووٹ کیا۔’

بھنگ کے استعمال کی حمایت یا مخالفت بنیادی طور پر دو زمروں میں تقسیم ہے: نشہ ایک گناہ یا بیماری ہے اور اس کا علاج اخلاقی یا طبی ہونا چاہیے۔

اتل امبیڈکر، جو کہ اقوام متحدہ کے محکمہ انسداد منشیات میں مشیر رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے زمینی سطح پر بہت اثر تو نہیں پڑے گا لیکن یہ اقدام قابل ستائش ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ میں قانون کی ترمیم کی مخالفت کو نظریاتی موقف بتایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘بھنگ کو بغیر کسی ٹھوس سائنسی ثبوت کے بدنام کیا گیا ہے۔ یہ اس بدنامی کو کم کرنے کے راہ میں پہلا قدم ہے۔’

اقوام متحدہ کے مطابق بہت سارے ممالک میں بھنگ پر پوری طرح پابندی ہونے کے بعد بھی یہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات ہے۔ اس کے مطابق سنہ 2017 میں 18 کروڑ 80 لاکھ افراد نے اس کا استعمال کیا تھا۔ اسے پاکستان میں بھی ہزاروں لوگ تفریحی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے تفریحی مقاصد کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں بھی اس پر پابندی ہے لیکن اس کا نفاذ پوری طرح نہیں کیا جاتا، جیسے متعدد دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ (انڈیا میں مذہبی وجوہات سے بھنگ لینے کی اجازت ہے کیوں کہ بہت سے تہواروں میں اس کا استعمال ہوتا ہے، یہاں تک کہ شیو کو بھنگ کا دیوتا کہا جاتا ہے۔)

کچھ ممالک جیسے کینیڈا اور جنوبی افریقہ تفریحی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کی قانونی طور پر اجازت دیتے ہیں۔ امریکہ، جس نے بھنگ کو شیڈول میں ڈالنے کے لیے سنہ 1961 میں رہنمائی کی تھی، اس کی مختلف ریاستوں میں اس کے استعمال کے لیے مختلف قوانین ہیں۔

کم از کم 15 ریاستیں اسے تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی قانونی اجازت دیتی ہیں۔ اسی طرح اس کی متعدد ریاستیں اس کو دواؤں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہیں لیکن وفاقی قانون میں اس کا استعمال ابھی بھی ممنوع ہے۔

ودھی سینٹر فار لیگل پالیسی کی ایک رپورٹ میں نیہا سنگھل اور نوید احمد لکھتے ہیں کہ جب بھنگ کو شیڈیول چار میں رکھا گیا تھا اس وقت امریکہ نے پرزور طریقے سے دنیا کو منشیات کے استعمال کی ممانعت پسندانہ روش کی طرف راغب کیا۔ اس نے اسے بین الاقوامی شکل دی اور اقوام متحدہ کے توسط سے پوری دنیا میں منشیات فروشی پر پابندی قائم کرنے کے لیے کام کیا۔

لیکن تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس طرح کی پابندی سے غریب اور پسماندہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔

نیہا سنگھل اور نوید احمد مزید لکھتے ہیں کہ ‘منشیات کے ضابطے میں نسلی تعصب کی وجہ سے زیادہ تر افریقی امریکیوں کو بھنگ کے استعمال کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔’

حالانکہ اگر تاریخ کی بات کریں تو بھنگ جیسی منشیات کا استعمال دنیا میں صدیوں سے ہوتا رہا ہے۔

بھنگ کا استعمال جنوبی ایشیا میں کب ہوا؟

یہ مانا جاتا ہے کہ بھنگ وسطی ایشیا کے علاقوں میں سب سے پہلے ملی تھی جہاں سے اسے 1000 سے 2000 سال قبل مسیح انسانی ہجرت کے ذریعہ برصغیر میں لایا گیا تھا۔ جغرافیہ کے ماہر بارنی وارف کا مانا ہے کہ غالباً یہ آریائی حملوں میں یہاں آئی تھی۔

اس خطے میں اس کے استعمال کے ثبوت آثار قدیمہ میں بھی ملتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہندوؤں کے صحیفے اتھر وید میں لکھا ہے کہ اس کا استعمال بیماروں کے علاج کرنے اور ’بد روحوں کو قابو کرنے‘ کے لیے کیا جاتا تھا۔

قرون وسطی کے دور میں یورپی مسافروں نے بھی اس خطے میں بھنگ کے استعمال کے بارے میں لکھا ہے۔

16 ویں صدی میں پرتگالی مورخ گارسیا دا اورٹا نے بھنگ نوشی پر لکھا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ اس کا استعمال عام ہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ زیادہ تر لوگ اس کا استعمال کرتے ہیں۔’ سنہ 1798 میں جب انگریز حکومت برصغیر میں اپنے ابتدائی دور میں تھی تو برطانوی پارلیمان نے مقامی باشندوں کی صحت و تندرستی کی خاطر اس کے استعمال پہ ٹیکس لگایا تھا۔

اس کا استعمال قدیم عربی عبارتوں میں بھی ملتا ہے۔ 14ویں صدی کے مصری مورخ المقریزی نے قاہرہ کے خوشگوار باغات میں بھنگ کی مقبولیت کو بیان کیا۔

منشیات کی پرانی تاریخ اور بڑے ممالک میں اسے مجرمانہ عمل نہ سمجھے جانے کے رجحان سے بھنگ کے متعلق غلط یا برے تصور کے ختم ہونے کے امکان ہیں۔

درجہ بندی میں تبدیلی کے اثرات

تاہم اس کے درجہ بندی میں تبدیلی سے اس سے منسلک انڈسٹری پر ایک بہت ہی مختلف وجہ سے فوری اثر پڑ سکتا ہے اور وہ ہے کووڈ 19۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ منشیات کی منڈیوں پر کووڈ 19 کے اثرات کی پیش گوئی ابھی مشکل ہے لیکن اس کا اثر وسیع ہو سکتا ہے۔

اس نے سنہ 2008 کے معاشی بحران کے حوالے سے سنہ 2020 ورلڈ ڈرگ رپورٹ میں متنبہ کیا ہے کہ جیسے اس وقت صارفین میں سستے مصنوعی مادے یا انجیکشن کے استعمال میں اصافہ ہوا تھا اسی طرح ابھی خطرہ ہے کہ حکومتیں منشیات سے متعلق بجٹ کو کم کردیں گی۔

امبیڈکر کا ماننا ہے کہ اس کے استعمال یا پابندی کا فیصلہ کرنے کے لیے ‘مستقبل میں مزید سائنسی شواہد اکٹھے کیے جانے چاہیے، اور عام رائے قائم کی جانی چاہیے، تب ہم ممکنہ طور پر یہ کہہ سکیں گے کہ اسے شیڈول ون میں بھی نہیں رہنا چاہیے’ یعنی اسے تحقیق اور ادویات کے علاوہ تفریحی طور پر بھی استعمال کیا جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ جن ممالک نے اس پر سے پابندی ہٹائی ہے دوسروں کو ان کے تجربے سے سیکھنا چاہیے اور اس کے حساب سے اقدام لینے چاہیے۔


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button