World

تاریخی آپریشن کے بعد علیحدہ کی جانے والی جڑواں بہنوں کی معذوری کے باوجود ’بھرپور زندگی‘ کی روداد

  • ریبیکا وُڈز
  • بی بی سی نیوز

،تصویر کا کیپشن

جڑواں بہنوں کو برمنگھم چلڈرن ہسپتال میں ایک تاریخی آپریشن کے بعد علیحدہ کیا گیا تھا

دسمبر 2001 میں برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ایک نہایت ہی نازک آپریشن کیا گیا جس میں تین ماہ کی ان دو بہنوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا گیا جن کے جسم آپس میں جُڑے ہوئے تھے۔ سانچیا موات اور ایمان موات کو جس پیدائشی مسئلے کا سامنا تھا، وہ اتنا غیر معمولی تھا کہ دونوں بہنیں شروع سے عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ اتنے غیر معمولی آپریشن سے منسلک خدشات کو شکست دینے کے بعد آج ان بہنوں کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ آپریشن تھیٹر میں کچھ دیر کے لیے تو عملے کی سانسیں اوپر نیچے ہوئی تھیں لیکن پھر جلد ہی تھیٹر میں تالیاں گونج اٹھیں۔ 16 گھنٹے کے تھکا دینے والے آپریشن کے بعد آخر کار ان بچیوں کو الگ کر دیا گیا جن کی ریڑھ کی ہڈی تین ماہ سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔

برمنگھم کے بچوں کے ہسپتال میں یہ ایک تاریخی دن تھا کیونکہ یہ برطانیہ میں اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن تھا اور دنیا بھر میں ایسا آپریشن تیسری مرتبہ کیا جا رہا تھا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک آپریشن تھا کیونکہ آپس میں جُڑے ہوئے جڑواں بچوں میں آپریشن کے بعد زندہ بچ جانے کا تناسب پانچ فیصد سے لے کر 25 فیصد تک ہوتا ہے۔

اگر ان بہنوں کو آپریشن کے ذریعے کامیابی سے الگ کر بھی لیا جاتا، تو بھی اس بات کا خطرہ بہت زیادہ تھا کہ جب ڈاکٹر دونوں کو کمر سے کاٹ کر الگ کریں گے تو ان میں سے ایک یا دونوں کو فالج ہو سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے

لیکن خوشی کی بات یہ تھی کہ یہ آپریشن ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب سانچیا اور ایمان کے والدین نے اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں میں الگ الگ اٹھایا۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے اس لمحے کو بھی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا تھا۔

اب سانچیا اور ایمان یونیورسٹی میں پہنچ چکی ہیں اور ان کی تیسری بہن داماریس بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے جو جڑواں بہنوں سے گیارہ ماہ چھوٹی ہیں۔ ان بہنوں کی زندگی غیر معمولی ہے لیکن بظاہر ان کے شب و روز میں ہمیں کوئی ایسی انوکھی بات بھی دکھائی نہیں دیتی۔

،تصویر کا کیپشن

ایما اور ڈیوڈ موات اپنی بیٹیوں سانچیا اور ایمان کے ساتھ

ایمان کے بقول ’لوگ اپنے جڑے ہونے کی کہانیوں پر بات نہیں کرتے، لیکن ہم ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔‘

ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اگر ان کو کامیابی کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے تو بہنیں نارمل زندگیاں گزار سکتی ہیں۔ دونوں کو سپائنا بیفیڈا تھا جو ایک ایسی بیماری ہے جس میں ماں کے رحم میں ہی ریڑھ کی ہڈی پوری طرح نہیں بنتی، اور دونوں کی ہی ایک ٹانگ کمزور تھی۔ اس کے متعلق کچھ علم نہیں تھا کہ یہ حالت ان کی نشو و نما میں کس طرح اثر انداز ہو گی۔

سانچیا کہتی ہیں کہ ’انھیں نہیں پتا تھا کہ ہم کبھی چل سکیں گے، لیکن جب ہم چلے تو لوگوں نے کہا کہ یہ ایک معجزہ ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

موات کو اپنی بیٹیوں کے جڑے ہوئے ہونے کے بارے میں 20 ہفتے کے سکین کے دوران پتہ چلا

سب سے پہلے سانچیا نے دو سال کی عمر میں چلنا شروع کیا تھا اور اس کے پانچ ہفتوں کے بعد ایمان نے قدم اٹھانے شروع کر دیے۔ اور کچھ عرصے کے بعد ہی وہ برمنگھم کے نواح میں واقع گریٹ بار میں اپنے خاندانی گھر میں دوڑیں لگا رہی تھیں۔

ان کی شروع کی زندگی پرائمری سکول، ہسپتال کے چکروں اور ٹیلی ویژن پر اپنی صحت کے متعلق باتیں کرنے تک ہی محدود تھی۔

ایمان یاد کرتی ہیں کہ ‘ہمیں چھوٹی عمر سے ہی پتا تھا کہ ہم مختلف ہیں، ہسپتال کی اپائنٹمنٹس، آپریشنز، اور ہم وہ سب چیزیں نہیں کر سکے جو ہمارے دوست کر رہے تھے۔’ وہ کہتی ہیں کہ ان کے چھوٹے ہم جماعتی بہت اچھے تھے اور انھوں نے ان کی حالت کو قبول کیا تھا، اور ان سے ان کی اب تک دوستیاں قائم ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

دو سال کی عمر میں جڑواں بہنیں اپنی تیسری بہن داماریس کے ساتھ

وہ کہتی ہیں کہ ان کی کمزور ٹانگ کا مطلب تھا کہ پانچ منٹ کی چہل قدمی بھی 20 منٹ لیتی تھی، اور وہ وہیل چیئر اور بیساکھیوں کا سہارا بھی لیتی تھیں۔

سانچیا کہتی ہیں کہ ‘ہم نے اپنی معذوری کو بہت چھوٹی عمر سے ہی قبول کر لیا تھا۔ ہم نے کسی کو یہ نہیں کہنے دیا کہ ہم کچھ کام نہیں کر سکتے۔’

وہ سکول میں اپنے شروع کے دنوں کی ایک مثال دیتی ہیں۔

‘مجھے یاد ہے کہ میں چار سال کی تھی اور مختلف محسوس کر رہی تھی۔ ہم ٹگ اینڈ ٹیگ کھیل رہے تھے کہ ایک لڑکے نے کہا کہ تم اپنی ٹانگوں کی وجہ سے یہ نہیں کر سکتی۔’

‘(میں نے سوچا) ہاں، میں معذور ہوں، لیکن کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ آپ کو بتائے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ میں اس دن بھاگی، اور میں سب سے اچھی نہیں تھی پر میں پھر بھی بھاگی تھی۔

‘جب کوئی آپ سے ایسی کوئی چیز کہتا ہے تو اس سے آپ میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ ہاں میں کر سکتی ہوں۔’

،تصویر کا کیپشن

سکین کے بعد پتہ چلا کہ سرجنز کو کتنے بڑے چیلنج کا سامنا ہے

دونوں اکٹھی آئیں اور جڑی ہوئی بھی تھیں

سانچیا اور ایمان کو جس آپریشن کی ضرورت تھی وہ پہلے کبھی برطانیہ میں نہیں کیا گیا تھا۔ اس میں ان کی ریڑھ کی ہڈی کو دو حصوں میں تقسیم کرنا تھا جو نیچے سے جڑی ہوئی تھی۔

ڈاکٹروں نے جن کی قیادت نیورو سرجن ٹونی ہاکلے کر رہے تھے، ریڑھ کی ہڈی کو تقسیم کیا اور کچھ اہم حصوں کو بھی علیحدہ کیا، جن میں مثانے بھی شامل تھے۔

اس آپریشن کے متعلق گارڈیئن اخبار سے بات کرتے ہوئے ٹونی ہاکلے نے کہا: ‘وہ دونوں اکٹھی آئیں اور ایک ہو گئیں۔ وہ ایک ڈگری گھومی بھی تھیں۔ ہمیں اس طرح کاٹنا تھا کہ ہر لڑکی کو ریڑھ کی ہڈی بھی ملتی، اور اسے ڈھانپنے کے لیے ٹیوب بھی بنانا تھی۔

‘کاٹنے کی تکنیک روایتی تھی لیکن اہم یہ تھا کہ کہاں سے کاٹنا ہے۔ ہمارے پاس مدد کے لیے نیورو سٹیمولیٹرز تھے۔’

ریڑھ کی ہڈی کی علیحدگی کے بعد، بچوں کے سرجن پیٹر گورنال اور جڑے ہوئے بچوں کے دنیا کے سب سے سرکردہ ماہرین میں سے ایک، گریٹ اورمونڈ سٹریٹ ہسپتال کے لیوس سپٹز نے بہت احتیاط سے لڑکیوں کے اعضا نکالنے شروع کر دیے، جو کہ مکمل تھے لیکن وہاں پھنس چکے تھے۔

نوعمری میں دونوں جڑواں بہنیں اپنے ماضی کے متعلق بہت زیادہ محتاط تھیں، لیکن ان کے ہم جماعت پھر بھی ان سے کچھ نہ کچھ پوچھ ہی لیتے۔

سانچیا کہتی ہیں کہ ‘لوگ متجسس تھے، وہ ہم سے پوچھ لیتے کہ کیا یہ واقعی درست ہے؟ لیکن ہم اسے اپنے تک رکھنا چاہتے تھے۔ وہ ہمیں گوگل کر لیتے۔ میں نے سوچا کہ لوگ بولنا بند کر دیں گے، یہ صرف ایک عارضی خبط ہے، لیکن وہ نہیں رکے۔’

نیورو سرجن ٹونی ہیکلے جنھوں نے جڑواں بہنوں کو علیحدہ کیا تھا اور جن کا طبی حلقوں میں بہت زیادہ احترام کیا جاتا تھا، بعد میں خاندان کے قریبی دوست بن گئے۔

انھیں ہر سالگرہ یاد تھی اور وہ موات کے گھر باقاعدہ طور پر آتے تھے۔ وہ اچانک 2009 میں 65 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ گذشتہ سال جڑواں بہنوں نے ان کی یاد میں ہونے والی ایک تعزیتی تقریب میں شرکت کی جو کہ ڈاکٹر کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک خوشی کا موقع تھا۔

،تصویر کا کیپشن

جڑواں بہنوں نے اسی ہسپتال میں ورک ایکسپیئرنس حاصل کیا جہاں انھیں نئی زندگی ملی تھی

سانچایا اور ایمان کے بالغ ہونے کے بعد بھی ان کا تعلق برنگھم ہسپتال سے جاری رہا۔ یہاں تک کہ انھوں نے کام کا تجربہ بھی وہیں سے حاصل کیا، جہاں وہ طبی عملے کے ان کچھ اراکین سے بھی ملیں جو 16 سال قبل ان کے آپریشن کے وقت آپریشن روم میں موجود تھے۔

سانچیا کہتی ہیں کہ ‘وہ بہت اچھا موقع تھا۔ ہم اس اینستھیزیئسٹ سے ملے جنھوں نے ہمیں (بیہوشی کے لیے) گیس دی تھی، اور میڈیکل کے ان طلبا سے بھی جو ہماری پیدائش کے وقت وہاں موجود تھے۔’

‘وہ بہت دلچسپ اور شکر ادا کرنے والا تجربہ تھا۔ ہم اس کی بہت قدر کرتی ہیں۔’

،تصویر کا کیپشن

تینوں بہنیں ورچوئل پروم کے لیے تیار

کورونا وائرس کی وجہ سے ان کے ہائی سکول کے تجربے کو روکنا پڑا، اور مارچ میں ان کا سکول بند ہو گیا۔ سانچیا کہتی ہیں کہ ‘وہ ہم سے چھین لیا گیا۔ ہم اب بھی اس سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

لیکن پھر بھی انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تیسری بہن داماریس، جو کہ انھی کی جماعت کی طالبہ ہیں، کے ساتھ مل کر زوم پر قریبی دوستوں کے ساتھ ورچوئل پروم منایا۔ یہاں تک کہ انھوں نے اشتہار اور ٹکٹیں بھی بنائیں۔

ایمان کہتی ہیں کہ وہ ایک زبردست دن تھا۔ ہم نے اپنے سکول کے برسوں کو اپنے لوونگ روم میں ناچتے ہوئے خدا حافظ کہا۔’

یہ تقریب لاک ڈاؤن کی ایک نمایاں سرخی تھی۔ ایمان کے مطابق ‘اپریل بہت تاریک تھا’ اور اس میں ان کے ایک رشتہ دار کووڈ 19 کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

’وہ بہت مشکل تھا۔ لیکن قرنطینہ نے ہمیں ایک دوسرے کی قدر کرنا سکھائی ہے۔ یہ ہماری اچھائیوں کو سامنے لایا ہے۔‘

عالمی وبا تینوں بہنوں کو مزید قریب لے آئی ہے۔ جڑواں بہنیں داماریس کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتیں۔

سانچیا کہتی ہیں کہ وہ ‘ہمیں چلانے والی طاقت ہے۔’ انھوں نے بتایا کہ ان کی بہن نے آپریشن کے بعد انھوں لاتعداد مرتبہ سنبھالا ہے، یا اس وقت جب بھی کبھی ان پر مشکل دن آتا ہے۔

ایمان کہتی ہیں کہ ‘ہم ایک دوسرے سے سہارے ڈھونڈتی ہیں، لیکن داماریس جوڑنے والی گوند ہے۔ وہ ہمارے لیے ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔’

،تصویر کا کیپشن

دونوں بہنوں نے دو سال کی عمر میں چلنا شروع کر کے سب کو حیران کر دیا تھا

آپس میں جڑے ہوئے جڑواں بچے

  • وہ ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک فرٹیلائیزڈ ایگ سے ہی بنتے ہیں۔
  • آپس میں جڑے ہوئے بچے انتہائی کم پیدا ہوتے ہیں، جن کی شرح تقریباً ہر دو لاکھ میں ایک ہے۔
  • وہ زیادہ تر چھاتی، پیٹ یا کمر کے نیچے سے جڑے ہوتے ہیں۔
  • آپس میں جڑے ہوئے بچوں میں تقریباً 70 فیصد لڑکیاں ہوتی ہیں۔
  • ان کے جڑے ہوئے ہونے کے دو نظریے ہیں: یا تو ان دونوں کے ایمبریوز میں تقسیم عام حالات سے بہت دیر میں ہوتی ہے، اور جڑواں مکمل طور پر تقسیم نہیں ہوئے ہوتے، یا تقسیم کے بعد ایمبریوز کے کچھ حصے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور وہ جسم کے حصے آہستہ آہستہ بچے کے مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ آپس میں جڑ جاتے ہیں۔

تینوں اب یونیورسٹی میں ہیں۔ سانچیا سائبر سکیورٹی پڑھ رہی ہیں، ایمان پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنسز، اور داماریس چائلڈ ہڈ، یوتھ اینڈ ایجوکیشنل سٹڈیز کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

سانچیا کوڈ بنانا بھی سیکھ رہی ہیں جو کہ اس مہم کا حصہ ہے جس میں زیادہ سے زیادہ سیاہ فام خواتین کو اس صنعت میں لانا مقصود ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘ٹیکنالوجی کو بہت زیادہ سیاہ فام خواتین کی ضرورت ہے۔ میں کریبیائی لڑکی ہوں، جو آپ کو بہت زیادہ نہیں نظر آئیں گی (اس جاب میں)۔ میں تبدیلی لانا چاہتی ہوں اور دکھانا چاہتی ہوں کہ میں یہ کر سکتی ہوں۔’

دریں اثنا ایمان کا خواب سیاست میں آنے کا ہے، اور وہ امریکی سیاست دان الیگزانڈریا اوکاسیو کورٹیز سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘نئے طرح کا سیاستدان بننا مختلف ہو گا، ہم بتدریج بدلتی ہوئی دنیا میں رہ رہے ہیں۔’

جڑواں بہنیں شروع کے چند ہفتے زندہ رہنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اب اپنے آپ کو عام نوجوان خواتین کی طرح دیکھتی ہیں جن کے بڑے خواب ہیں، اور جن کی دنیا خاندان، دوستوں اور عقیدے کے گرد گھومتی ہے۔

ایمان کہتی ہیں کہ ’آپ کو زندگی کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے۔‘

اور سانچیا کہتی ہیں کہ ’ہم نے دوسرے جڑواں بچوں کے متعلق پڑھا ہے (جو مر گئے تھے)۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے۔ یہ ہم بھی ہو سکتے تھے۔‘


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button