World

فرانس اور اسلام: فرانسیسی اقدار اپنانے کے لیے مسلمانوں کو ریاستی دباؤ کا سامنا

  • لوسی ولیمسن
  • بی بی سی، پیرس

،تصویر کا کیپشن

پیرس گرینڈ مسجد میں مسلمان خطبہ سن رہے ہیں

فرانس کی مسلم کونسل رواں ہفتے صدر ایمانویل میکخواں سے ملاقات کرنے جا رہی ہے تاکہ ملک بھر کے اماموں سے دستخط کروانے کے لیے ’چارٹر آف رپلیکن ویلیوز‘ یا جمہوری اقدار کے چارٹر میں موجود نکات کی تصدیق کی جا سکے۔

حکومت کی جانب سے فرینچ کونسل آف مسلم فیتھ (سی ایف سی ایم)، جو مختلف مسلم انجمنوں کی نمائندگی کرتی ہے، سے کہا گیا ہے کہ وہ اس چارٹر کے متن میں فرانس کی جمہوری اقدار کی پہچان، ایک سیاسی تحریک کے طور پر اسلام کو مسترد کرنے اور غیر ملکی مداخلت پر پابندی کو بھی شامل کریں۔

سی ایف سی ایم کے نائب صدر اور پیرس گرینڈ مسجد کے ریکٹر شمس الدین حافظ کا کہنا تھا کہ ’ہم سب اس چارٹر اور اس میں کیا کیا شامل ہو گا، پر متفق نہیں ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام کے حوالے سے ہم فرانس میں ایک اہم تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں اور ہم مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ آٹھ سال پہلے وہ بہت مختلف انداز میں سوچتا تھا کیونکہ اس وقت انتہا پسند محمد مہرہ نے ٹولوس میں تازہ تازہ حملے کیے تھے۔

اس وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں ’سابق فرانسیسی صدر سرکوزی نے اس بارے میں بات کرنے کے لیے صبح پانچ بجے مجھے اٹھا دیا۔ میں نے ان سے کہا: ’اس کا نام محمد ہو سکتا ہے، لیکن وہ مجرم ہے! میں اس جرم کا اپنے مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ آج میں اس تعلق کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ فرانس کے اماموں کو یہ کام کرنا ہے۔‘

اس منصوبے کے تحت سی ایف سی ایم فرانس میں اماموں کا ایک رجسٹر تیارکرے گی اور باضابطہ اجازت نامہ حاصل کرنے کے بدلے اماموں کو اس چارٹر پر دستخط کرنا ہوں گے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے اکتوبر میں مسلمان رہنماؤں پر ’زیادہ دباؤ‘ ڈالنے سے متعلق بات کی تھی لیکن فرانس جیسے ملک میں جہاں ریاستی سیکولرازم ملکی شناخت کا مرکزی جزو ہے، یہ عمل مشکل ہو سکتا ہے۔

میکخواں فرانس میں سیاسی اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ان کی کوشش ہے کہ وہ کسی مذہبی عمل میں مداخلت نہ کریں اور ایسا ظاہر نہ کریں کہ وہ کسی خاص عقیدے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں فرانسیسی معاشرے میں مسلمانوں کے تمام گروہوں کو ضم کرنا ایک پریشان کن سیاسی مسئلہ رہا ہے۔ فرانس میں ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ مسلمان آباد ہیں یعنی مغربی یورپی ممالک میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں رہتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ فرانس انتہا پسندوں کے سامنے ہار تسلیم نہیں کرے گا

فرانس میں اسلام کے ماہر اولیویر رائے کا کہنا ہے کہ اس چارٹر میں دو مسائل ہیں۔ پہلا امتیازی سلوک کیونکہ اس میں صرف مسلم مبلغین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسرا مذہبی آزادی کا حق۔

وہ کہتے ہیں ’آپ پر ریاستی قوانین کی پابندی لازم ہے لیکن ضروری نہیں کہ آپ ریاستی اقدار کا احترام بھی کریں۔ مثال کے طور پر، آپ ایل جی بی ٹی افراد کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کر سکتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ کیتھولک چرچ ہم جنس شادی کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔‘

سخت گیر اسلام کے حامی جنھیں فیشن ڈیزائنر ایمان مستوثی ’نفرت کرنے والے افراد‘ کہتی ہیں، اکثر ان پر تنقید کرتے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ ایمان کے ڈیزائن کیے گئے سکارف اور سر پر پہننے والی ٹوپیاں مکمل طرح سے عورتوں کا سر نہیں ڈھانپتیں۔

تاہم ایمان کا کا کہنا ہے کہ مسلمان اماموں کے ’فرانسیسی اقدار‘ والے چارٹر پر دستخط کرنے میں مسئلہ یہ ہے کہ پہلے ہی بہت سے لوگ مسلمانوں کو فرانسیسی نہیں سمجھتے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’یہ ہمیں ایک عجیب صورتحال میں ڈال رہے ہیں، جہاں آپ کو لوگوں کو دکھانا ہو گا کہ آپ جمہوریہ کی اقدار پر عمل پیرا ہیں اور خود کو فرانسیسی سمجھتے ہیں لیکن دوسرے لوگ آپ کو فرانسیسی نہیں سمجھتے۔‘

’ہمیں لگتا ہے کہ ہم ٹیکس دیتے رہیں، قومی خدمت کا کوئی بھی کام کر لیں، یہ کافی نہیں ہو گا۔ آپ کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ آپ واقعی فرانسیسی ہیں: آپ کو خنزیر کا گوشت کھانا ہو گا، شراب پینی پڑے گی، حجاب چھوڑ کر منی سکرٹ پہننا ہو گی اور یہ سب مضحکہ خیز ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

امام حسنین شلغومی نے سر قلم کیے جانے والے استاد سیموئل پیٹی کو مسلمان کی جانب سے دیے گئے خراج تحسین کی قیادت کی تھی

انتہا پسندی کا ٹائم بم

لیکن پیرس کے نواح میں واقع جامع مسجد کے امام حسنین شلغومی کا کہنا ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کے برسوں بعد حکومت ایسا کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ شلغومی اپنے اصلاح پسند نظریات کے باعث، خود کو ملنے والی موت کی دھمکیوں میں اضافے کے بعد اب روپوش ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہم اس معاشرے میں رچ بس گئے ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں، ہمیں کچھ زیادہ کرنا ہے۔ انتہا پسندوں کے اعمال کی قیمت ہمیں ہی ادا کرنا پڑتی ہے۔‘

پیرس گرینڈ مسجد کے باہر دنیائے شرقی نماز کے لیے پہنچے ہیں، انھوں نے جائے نماز اور قرآن اپنے بازو کے نیچے دبا رکھا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’یہ نوجوان انتہا پسند ایک ٹائم بم کی طرح ہوتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ امام ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔ ہم اسلام کے ساتھ ساتھ فرانسیسی قانون کا بھی احترام کر سکتے ہیں، ایسا ممکن ہے اور میں یہی کرتا ہوں۔‘

امام، نوجوانوں پر کتنا اثرورسوخ رکھتے ہیں، خاص کر جب انتہا پسندانہ تشدد کی بات کی جائے، اس بارے میں کئی سوالات موجود ہیں۔

اولیویر رائے کا کہنا ہے کہ ’یہ چارٹر کام نہیں کرے گا اور اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے: دہشت گرد سلفی مساجد سے نہیں آتے۔ آپ دہشت گردوں کی سوانح حیات اٹھا کر دیکھ لیں، ان میں سے کوئی بھی سلفی تبلیغ کا نتیجہ نہیں ہے۔ سلفی ازم ایک سخت گیر، انتہائی قدامت پسند فرقہ ہے جسے سیاسی اسلام کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا کیپشن

فرانس میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف ہونے والا مظاہرہ

بھٹکی ہوئی نوجوان نسل سے کیسے نمٹا جائے؟

یہ چارٹر بیرونی اثر و رسوخ کو روکنے، انتہا پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد اور دھمکیوں کو روک تھام اور ان نوجوانوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے حکومت کی وسیع حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ ریاست نے انھیں بھلا دیا ہے۔

صدر میکخواں نے ریاستی سکولوں میں زیادہ سے زیادہ عربی زبان کی تعلیم دینے اور پسماندہ علاقوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کے بجائے ایسے اسلام پسندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو فرانس کے قوانین اور اقدار کو مسترد کرتے ہیں۔

حکیم الخورائی، انسٹیٹیوٹ مونٹائگن میں فرانسیسی اسلام پسند تحریکوں کے ماہر ہیں، اس حوالے سے وہ باقاعدگی سے حکومت کو اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں اس حکمت عملی کا ایک حقیقی پرستار ہوں۔ یہ جامع حکمتِ عملی ہے جو ثقافت کے ساتھ ساتھ تنظیم سازی اور مالی اعانت کے متعلق بھی رہنمائی کرتی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو خود اس طرح کے منصوبوں میں مسلمانوں کو شامل کرنا چاہیے کیونکہ وہ سوشل نیٹ ورکس پر اسلام کے روشن خیال نظریات کو پھیلانے کے معاملے میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ حکومت اس قابل نہیں ہے۔‘

اولیور رائے کا کہنا ہے کہ ’جب تک عام مسلمان اسے قبول نہیں کرتے، نئے چارٹر کا نفاذ مشکل ہو گا۔‘

وہ کہتے ہیں ’فرض کریں کہ مقامی مسلم کمیونٹی سی ایف سی ایم کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور اپنا امام مقرر کرتی ہے۔ اس صورت میں حکومت کیا کرے گی؟ یا تو ہم آئین میں تبدیلی لائیں اور مذہبی آزادی کے تصور کو ترک کر دیں کیونکہ حکومت، مقامی مسلم کمیونٹیز پر اپنے منظور کردہ امام مسلط نہیں کر سکتی۔‘

پیرس کے ایک سٹوڈیو میں اپنے نئے کیٹلاگ کی شوٹنگ کے دوران، ایمان مستاؤ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے 2017 میں اپنے پورے خاندان کو صدر میکخواں کو ووٹ دینے پر راضی کیا تھا۔

لیکن انتخاب میں کامیابی کے بعد سے انھوں نے امیگریشن اور سکیورٹی جیسے معاملات پر میکخواں کے بیانات کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میں میکخواں کی مداح تھی۔ وہ ہماری کمیونٹی کے لیے ایک حقیقی امید تھے لیکن اب ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہمیں بھلا دیا گیا ہے۔‘


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button