World

قاتل عورتیں: کیا مردوں کی طرح عورتیں بھی ایذا پسند یا موقع پرست ہو سکتی ہیں؟

شاید وہ بہت تنگ تھی۔ جب بھی میں کسی خاتون کے متعلق بات کرتی ہوں جس نے قتل کیا ہوتا ہے، یہ ہی وہ اہم مفروضہ ہے جو میں سنتی ہوں۔

جب لوگ اُن افراد کے متعلق بات کرتے ہیں جن سے نقصان دہ عمل سرزد ہوتا ہے، تو ایسا لگتا ہے کہ شوقیہ ماہر نفسیات ہونے کے جال میں پھنسنا آسان ہو جاتا ہے۔

اندازوں اور غلط فہمیوں کے درمیان، ہم اس میں جنسی تعصب کی جھلک بھی دیکھ سکتے ہیں۔

فیمینسٹ کرمنالوجسٹ کہتی ہیں کہ مجرمانہ انصاف کے نظام میں ہم میں خواتین سے بچوں کی طرح سلوک کرنے کا رجحان ہوتا ہے۔

مردوں کے مقابلے میں ہم غیر متناسب طریقے سے جرم کرنے والی خواتین کو حالات کا شکار سمجھتے ہیں، جنھیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتیں۔

ہو سکتا ہے کہ یہ سب بظاہر مثبت لگے، لیکن یہ جنسی تعصب کے نظریے کو بھی بڑھاوا دیتا ہے کہ معاشرے میں خواتین کا کردار غیر فعال ہے جبکہ مردوں کا فعال۔

یہ بھی پڑھیے

شاید یہ تقسیم سب سے زیادہ واضح اس وقت ہو جاتی ہے جب ہم ان خواتین کی بات کرتے ہیں جو قاتل ہیں۔

جنسی تفریق

جب تحقیق کار قاتلوں پر تحقیق کرتے ہیں تو ہم اکثر ’قتلِ عمد‘ کو سامنے رکھتے ہیں، جس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کسی شخص کی غیر قانونی موت جو جان بوجھ کر اسے مارنے یا بہت زیادہ نقصان پہنچانے کے ارادے سے کی گئی ہو۔ اسے عام زبان میں قتل کہا جاتا ہے۔

اس چیز کا بھی رجحان ہے کہ ڈیٹا کو عورتوں اور مردوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس لیے نہیں کہ سبھی تحقیق کار سخت صنفی بائنری کی توثیق کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ دونوں سب سے بڑے گروہوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے متعلق درست اندازہ لگانا آسان بھی ہے۔

صنف جرم کرنے والی آبادی کو تقسیم کرنے کا واحد طریقہ بھی ہے۔ دوسری خصوصیات جیسا کہ سماجی اقتصادی حیثیت، ذہنی صحت، اور تعلیم اکثر ایسے مفید طریقے ہیں جن کے ذریعے مجرموں کے درمیان فرق یا مماثلت کے متعلق بات کی جا سکے۔

لیکن اس کے باوجود یہ معنی خیز ہے کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ آیا مجرمانہ رویے میں صنف کوئی کردار ادا کرتی ہے اور اگر یہ کرتی ہے تو اس کا پتہ چلایا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

جب ہم قتل پر نظر ڈالتے ہیں تو صنفی تفریق بہت واضح ہے۔

2019 میں شائع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ایک عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جان بوجھ کے قتل کرنے والے 10 فیصد مجرمان کا تعلق خواتین کی صنف سے ہے۔ یہ شرح اس سے بھی کم ہو جاتی ہے جب ہم سزاؤں کو دیکھتے ہیں، اور وہاں صرف چھ فیصد خواتین ہیں۔

آفس آف نیشنل سٹیٹسٹکس (او این ایس) کے اعداد و شمار بھی کچھ اسی طرح کے ہیں۔ برطانیہ میں صرف آٹھ فیصد خواتین قتل کی مرتکب ہیں۔ ان اعداد و شمار میں بہت واضح صنفی عدم توازن نظر آتا ہے اور زیادہ تر قتلوں کے مرتکب مرد ہوتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار اور بھی زیادہ واضح ہو جاتے ہیں جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قاتل کی بجائے تقریباً چار گنا زیادہ عورتیں مقتول ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر 2019 میں برطانیہ میں قتل ہونے والوں میں 36 فیصد خواتین تھیں۔ ان میں سے اکثر عورتوں کو ان کے حالیہ یا سابق ساتھی نے قتل کیا تھا۔

یہ ان نتائج سے مطابق رکھتا ہے کہ گذشتہ برس برطانیہ میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ابھی تک تو یہ سب اس مفروضے کے مطابق ہے کہ جو خواتین قتل کرتی ہیں وہ شاید ایسا کرنے کے لیے مجبور ہوتی ہیں، اور یہ کہ کچھ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہوتی ہے اور وہ بالآخر بدلہ لینا چاہتی ہیں۔

اور ایسا اس لیے بھی کہا جا سکتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ تحقیق میں پتہ چلا ہے مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ تر قریبی پارٹنر کو ان حالات میں قتل کرتی ہیں میں جن مقتول خود جسمانی تشدد کا آغاز کرتا ہے۔

لیکن پھر بھی ہمیں ان خواتین کو جو قتل کرتی ہیں ساتھ ملانے میں اختیاط برتنی چاہیے، خصوصاً اس لیے کہ ہمارے پاس قاتل عورتوں کے بارے میں بہت محدود تحقیق ہے۔

او این ایس اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹیں بھی تفصیل کے ساتھ خواتین کے متعلق اس وقت بات کرتی ہیں جب وہ مقتول کے بارے میں بات کر رہی ہوں۔

یہ ایک مسئلہ ہے۔ یہ قاتل خواتین کی خصوصیات اور خطرے کے عوامل کو زیادہ تر غیر واضح یا پوشیدہ طریقے سے پیش کرتا ہے۔

محرک کیا ہے؟

خواتین سیریل کلرز ایک مثال کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں ہم ان عورتوں کے متعلق مفروضوں سے باہر آتے ہیں جو قتل کرتی ہیں۔

امریکہ میں 64 سیریل کلز پر کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ ہر خاتون سیریل کلر کا کم از کم ایک کمزور شکار تھا، ایک بچہ، ایک عمر رسیدہ شخص، یا کوئی ایسا شخص جو بہت بیمار تھا۔

انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ بدلہ لینے کے لیے یا تحفظ کے لیے؟ نہیں۔ سب سے زیادہ عام محرک مالی فائدہ تھا۔

سیریل کلرز خود ہی بہت نایاب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ مثالیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمیں اپنے مفروضوں کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے کہ عورتیں کیوں، کب، اور کسے قتل کرتی ہیں۔

خاتون ہونی کی چھوٹ

ان مفروضوں کو چیلنج کرنے کا کہ خواتین کیوں جرم کرتی ہے ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں عورتوں کے ساتھ مردوں والا رویہ رکھنا چاہیئے۔

زیادہ امکان ہے کہ بنیادی دیکھ بھال کرنے والوں میں خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں، اکثر ان کے پاس مالی ذرائع کم ہوتے ہیں اور وہ اکثر دوسرے طریقوں میں کافی غیر محفوظ ہوتی ہیں۔ یہ عوامل اہم، اور جب سزا دی جاتی ہے تو ان کو مدِ نظر رکھنا بالکل درست ہے۔

لیکن اس کے باوجود عورتوں کو دی جانے والی چھوٹ یا ’فیمیل ڈسکاؤنٹ‘ پر تشویش ضرور ہے۔

مثال کے طور پر امریکہ میں سزاؤں میں عدم مساوات پر کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ اوسطً خواتین کو 60 فیصد کم عرصے کے لیے سزائیں دی گئیں۔

جو خواتین پکڑی جاتی ہیں ان میں سے امکان ہے کہ اکثر بغیر کسی فردِ جرم اور سزا کے چھوٹ جاتی ہیں، اور اس کا امکان دو گنا زیادہ ہے کہ اگر ان کو سزا بھی دینا پڑے تو قید میں نہ رکھا جائے۔

کیا یہ خواتین کے ساتھ بچوں جیسا سلوک ہے؟ کیا اس سے مردوں کے خلاف الٹا تعصب نہیں برتا جا رہا؟ کیا یہ ٹھیک ہے؟

میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ مجرم عورتوں کو لمبے عرصے کے لیے قید میں رکھا جائے، یا قتل کے حالات فراموش کر دینے چاہیئں۔

عورتوں کی طرح مرد بھی حالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اور مردوں کی طرح عورتیں بھی ایذا پسند یا موقع پرست ہو سکتی ہیں۔ اور سبھی صنفوں کو ہماری ہمدردی کی ضرورت ہے، اور اگر وہ بری چیزیں بھی کریں تو انھیں بطور پیچیدہ انسانوں کے ہی دیکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر جولیا شا یونیورسٹی کالج لندن میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔ وہ کرمنل سائیکالوجی کی ماہر ہیں اور دو کتابوں ’میکنگ ایول: دت سائنس بیہائنڈ ہیومینیٹیز ڈارک سائیڈ‘ اور دی میموری الوژن: ریممبرنگ، فارگیٹنگ اینڈ دی سائنس آف فالس میمری‘ کی مصنفہ ہیں۔


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button