World

‘وہ فون کال جس نے مجھے آزادی دلائی مگر میری ماں کا دل توڑا‘

  • کویتا پوری
  • بی بی سی نیوز

سنہ 1990 میں دوسری نسل کے بہت سے ایشیائی برطانوی باشندے اپنے والدین کی نسبت مختلف اقدار کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں اور اب وہ اپنا علیحدہ رستہ اختیار کر رہے ہیں۔

فرح سید کے لیے اس کا مطلب ایک تکلیف دہ فون کال کی صورت میں نکلا، جس نے ان کی ماں رونی کا دل توڑ دیا۔

سنہ 1988 میں فرح سید نے لندن میں اپنے خاندانی کو گھر کو چھوڑ کر بائیولوجی اور سائیکالوجی کی تعلیم حاصل کرنے لیورپول چلی گئیں۔ مگر یہ محض صرف وہ لیکچرز ہی نہیں تھے جس کے لیے وہ وہاں گئی تھیں۔

ان کے مطابق یونیورسٹی ان کے لیے ایک آزادی کا ٹکٹ ثابت ہوئی، جس سے میرے علاوہ بظاہر ہر کوئی خوش دکھائی دیتا تھا۔


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button