World

کورونا کے بعد کا دور کیسا ہو سکتا ہے؟ ایڈونچر، جشن، ’فضول خرچی اور جنسی بے راہ روی کا دور آ سکتا ہے‘

  • سیسیلیا باریہ
  • بی بی سی، منڈو

،تصویر کا کیپشن

ییل یونیورسٹی کے ریسرچر نکولس کرسٹاکیس نے کہا ہے کہ تاریخی لحاظ سے، وبائی امراض کے خاتمے کے بعد ہمیشہ آزادی کا دور آیا ہے

امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں معاشیات، میڈیسن اور سوشل اور نیچرل سائنس کے پروفیسر نکولس کرسٹاکیس کا کہنا ہے کہ سنہ 2024 میں ہم وبائی مرض کے بعد کے دور میں داخل ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے اپنی نئی کتاب ‘اپولوز ایرو: دی پروفاؤنڈ اینڈ اینڈیورنگ امپیکٹ آف کورونا وائرس آن دی وے وی لِو’ (اپولو کا تیر: ہماری زندگی کے طریقے پر کورونا وائرس کے گہرے اور دیرپا اثرات) میں معاشرتی اور تاریخی نقطہ نظر سے وبائی امراض کے اثرات پر بحث کی ہے اور وہ اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔

’ٹائم‘ میگزین نے انھیں دنیا کے 100 بااثر افراد میں سے ایک اور ’فارن پالیسی‘ میگزین نے انھیں 100 بہترین عالمی مفکرین میں سے ایک کی حیثیت دی تھی۔ اس لیے کرسٹاکیس کو اکیڈیمکس کی اور محقیقین کی دنیا میں کافی معزز شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ معاشرتی تبدیلیوں اور انسان کے مستقبل سے متعلق ان کے اندازوں کو پذیرائی ملتی ہے۔ وائٹ ہاؤس سے کورونا کی وبا سے نمٹنے کے طریقے سے ناراض یہ ریسرچر پُر امید ہیں کہ ویکسین اس بحران سے نکلنے میں ہماری مدد کرے گی، حالانکہ وہ متنبّہ کرتے ہیں کہ گروپ سے استثنیٰ، یعنی ایک گروہ میں ہرڈ امیونٹی حاصل نہیں ہوگی۔


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button