World

ہراسانی، بغیر اجازت تصاویر اور بے عزتی: ایک سازندے کی داستان جنھیں مخصوص سکرٹ پہننے پر ہراساں کیا جاتا ہے

ولی آرمسٹرانگ کا تعلق موسیقی کے شعبے سے ہے اور وہ ’ریڈ ہاٹ چلی پائپرز‘ نامی بینڈ میں شہنائی سے ملتا جلتا ایک ساز بجاتے ہیں۔ اس موقع پر انھیں ایک مخصوص روایتی لباس پہننا ہوتا ہے جسے ’کلٹ‘ کہا جاتا ہے۔

یہ لباس ایک مناسب سائز کی سکرٹ کی مانند ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب بھی وہ کلٹ پہنتے ہیں تو خواتین انھیں دبوچ کر ان کی تضحیک کرتی ہیں اور ان کی نامناسب تصاویر لیتی ہیں۔

سکاٹ لینڈ کا یہ راک بینڈ جس کا نام ریڈ ہاٹ چلی پائپرز ہے سنہ 2003 میں بنا تھا۔ ولی آرمسٹرانگ بھی اسی کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی اس قسم کے نامناسب رویے کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ ان کی مانند ساز بجانے والے دیگر مردوں کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب وہ شکایت کرتے ہیں تو ان کی شکایت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اس پر ہنسا جاتا ہے۔

اپ سکرٹننگ یعنی کسی کی اجازت کے بغیر اس کے کپڑوں کو اٹھا کر یا نیچے کی جانب کیمرہ کر کے کسی کی تصویر لینا ہوتا ہے۔ سکاٹ لینڈ میں اپ سکرٹننگ پر سنہ 2009 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اس عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تصاویر یا ویڈیوز بنا کر کسی کے جسم کے مخصوص حصوں کو دیکھا جا سکے یا پھر یہ دیکھا جائے کہ کیا سکرٹ پہنے فرد نے زیرِجامہ پہن رکھا ہے یا نہیں۔

اس قسم کی حرکتوں کی وجہ سے گذشتہ سال خواتین کو میوزک فیسٹیول پر ’اپ سکرٹننگ‘ کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے اس کے خلاف مہم چلائی جس کے بعد انگلینڈ اور ویلز میں بھی اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔

آرمسٹرانگ نے سکاٹ لینڈ میں بی بی سی ریڈیو کے پروگرام ڈرائیو ٹائم میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر مرد غیر مناسب رویے کی شکایت کریں تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا لڑکپن سے ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ عورتیں ہمارے مخصوص لباس کلٹ پر ہاتھ رکھتی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں اپنے امی ابو کو بتاتا تھا تو وہ کہتے تھے ایسے ہوتا ہے۔ کیا واقعی یہ ایسا ہی ہے؟ ایسا سنہ 1976 میں ہوتا تھا اب یہ ناقابل برداشت ہے۔‘

آرمسٹرانگ نے مزید بتایا کہ یہ مسلسل ہوتا تھا اور پوچھا جاتا تھا کیا واقعی تم سکاٹش مرد ہو؟

’دراصل آپ سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے زیرِ جامہ پہنا ہوا ہے۔ اگر آپ اس کے بدلے میں ایک عورت سے یہ پوچھیں کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے اپنے زیر جامہ پہنا ہوا ہے تو یہ بالکل الٹ بات ہو جاتی۔‘

آرمسٹرانگ نے ایسے متعدد واقعات بتائے جن میں ان پر جنسی نوعیت کے حملے ہوئے اور ایسا تب ہو رہا ہوتا تھا جب وہ سٹیج پر پرفارم کر رہے ہوتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک واقعے میں ایک عورت نے ان کے لباس کے نیچے سے اپنے فون پر ان کی تصویر لی اور پھر اپنے فون کو وہاں ٹیبل پر موجود سب لوگوں کو فرداً فراداً دکھایا۔

’میں نے شہنائی بجانے کا کام بالکل چھوڑ دیا اور میں یہ سوچتا رہتا تھا کہ جو اس خاتون نے میرے ساتھ کیا ہے یہ میں اس کے ساتھ کرتا تو مجھے گرفتار کر لیا جاتا۔ میں اسے مذاق نہیں سمجھتا۔ اور میں جانتا ہوں دیگر مرد اسے مذاق سمجھتے ہیں۔‘

ایک اور واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا ’مجھے یاد ہے کہ ہم آئر ٹاؤن ہال میں تھے۔ میں سٹیج سے نیچے اترا۔ وہاں موجود لوگ بہت پُرجوش تھے اور وہ لوگ سٹیج کی جانب آنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مجھے نہیں معلوم میرے لباس تک کتنے ہاتھ آئے۔ میں شہنائی بجانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن میں اپنی عزت اور وقار کو بھی بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ساز بجا رہے ہوتے ہیں انھیں اکثر اوقات اس قسم کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کام کے دوران ایک وقت ایسا بھی تھا جب تقریباً ہر ہفتے ایسے ہی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا۔

آرمسٹرانگ کہتے ہیں کہ بہت بار ہم اس رویے کو مان لیتے ہیں اور یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہے نہ یہ چلی پائپر بینڈ کے ممبران کے ساتھ ہوتا ہے یہ اور لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ ’دوسروں کے لحاظ سے حدود کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اگر آپ کسی کو کچھ کہنا چاہتے ہیں کسی کو چھونا چاہتے ہیں تو آپ کو پہلے اس کی اجازت لینا ہو گی۔‘

’حدیں ہوتی ہی جنھیں آپ عبور نہیں کر سکتے۔ اور بہت بار انھیں عبور کر لیا جاتا ہے۔‘ سکاٹ لینڈ کے مکین ولی آرمسٹرانگ کا کہنا ہے کہ ’مجھے خواتین کی جانب سے کام کے دوران مسلسل ہراساں کیا جاتا ہے۔‘


Source link

International Updates by Focus News

Show More

Related Articles

Back to top button